تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| تین محرم 61 ہجری کا دن کربلا کی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ لے کر آیا۔ اگر دو محرم کو امام حسینؑ کے راستے محدود کیے گئے تھے تو اب باطل کی قوتیں مزید منظم انداز میں میدان میں اترنے لگیں۔ کوفہ سے لشکر در لشکر کربلا پہنچ رہا تھا۔ عمر بن سعد چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ کربلا میں داخل ہوا اور یوں ایک ایسے معرکے کی بنیاد پڑی جس نے بعد میں تاریخِ انسانیت کا رخ بدل دیا۔
ظاہری نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک طرف چند درجن افراد تھے اور دوسری طرف ہزاروں کا لشکر۔ ایک طرف تلواروں کی چمک تھی، دوسری طرف سچائی کی روشنی۔ ایک طرف حکومت تھی، دوسری طرف حق۔ لیکن تاریخ کا عجیب اصول ہے کہ وہ ہمیشہ تعداد نہیں گنتی، بلکہ کردار کا وزن کرتی ہے۔
امام حسینؑ کے خیموں میں سکون تھا، اطمینان تھا، یقین تھا۔ آپؑ جانتے تھے کہ آنے والے دن آسان نہیں ہیں، لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی قربانی دینِ محمدیؐ کی بقا کا سبب بنے گی۔
قرآن مجید فرماتا ہے:﴿كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾“کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”(سورۂ بقرہ: 249)
کربلا اسی آیت کی عملی تفسیر تھی۔ اگرچہ ظاہری فتح دشمن کے حصے میں آنے والی تھی، لیکن حقیقی اور دائمی فتح امام حسینؑ کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔
عمر بن سعد کو ابن زیاد نے ایک واضح پیغام کے ساتھ بھیجا تھا: حسینؑ سے بیعت لی جائے، ورنہ انہیں ختم کر دیا جائے۔ یہ محض ایک سیاسی حکم نہیں تھا بلکہ حق اور باطل کے درمیان آخری حد بندی تھی۔
امام حسینؑ جانتے تھے کہ مسئلہ صرف ایک فرد کی بیعت کا نہیں، بلکہ پورے اسلامی معاشرے کی روح کا ہے۔ اگر یزید جیسے شخص کی حکومت کو دینی جواز مل جاتا تو ظلم، فسق، بدعنوانی اور جبر کو اسلام کا نام دے دیا جاتا۔
اسی لیے امام حسینؑ نے فرمایا:«وَعَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيدَ»“اسلام کو سلام ہے جب امت یزید جیسے حکمران میں مبتلا ہو جائے۔”(مقتل خوارزمی، ج1)
یہ جملہ دراصل پورے قیامِ حسینی کا خلاصہ ہے۔
کربلا میں امام حسینؑ کی جنگ کسی قوم، قبیلے یا خاندان کے خلاف نہیں تھی۔ یہ جنگ ظلم کے خلاف تھی، انحراف کے خلاف تھی، دین کے نام پر قائم ہونے والی آمریت کے خلاف تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:«مَنْ رَأَى سُلْطَانًا جَائِرًا مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللّٰهِ … فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِقَوْلٍ وَلَا فِعْلٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ»“جو شخص کسی ظالم حکمران کو اللہ کی حدود پامال کرتے دیکھے اور نہ زبان سے اس کی مخالفت کرے اور نہ عمل سے، تو اللہ اسے بھی اسی انجام میں شریک کر دے گا۔”(تاریخ طبری)
امام حسینؑ اسی حدیثِ نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے میدان میں آئے تھے۔
تین محرم کا دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سچائی ہمیشہ اکثریت کے ساتھ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات پوری دنیا ایک طرف ہوتی ہے اور حق ایک طرف۔
حضرت نوحؑ کے ساتھ چند افراد تھے۔
حضرت ابراہیمؑ تنہا تھے۔
حضرت موسیٰؑ کے مقابل فرعون کی سلطنت تھی۔
رسول اللہؐ کے مقابل مکہ کا پورا نظام تھا۔
اور کربلا میں حسینؑ کے مقابل ایک پوری حکومت کھڑی تھی۔
لیکن انجام کس کا بہتر ہوا؟
تاریخ نے ہمیشہ حق کو زندہ رکھا اور باطل کو عبرت بنا دیا۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:«لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ»“راہِ ہدایت میں چلتے ہوئے اہلِ حق کی کمی سے خوف زدہ نہ ہونا۔”(نہج البلاغہ)
کربلا کا میدان اس فرمان کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔
ایک طرف ہزاروں کی تعداد تھی لیکن یقین نہیں تھا۔
دوسری طرف چند افراد تھے لیکن ایمان کا پہاڑ ان کے ساتھ تھا۔
حبیب بن مظاہرؑ جیسے بوڑھے مجاہد، مسلم بن عوسجہؑ جیسے وفادار ساتھی، زہیر بن قینؑ جیسے بیدار ضمیر انسان اور اہلِ بیتؑ کے جوان سب جانتے تھے کہ ظاہری کامیابی شاید ان کے نصیب میں نہ ہو، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حق کے راستے پر مر جانا، باطل کے ساتھ جینے سے بہتر ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾“جو لوگ راہِ خدا میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔”(سورۂ آل عمران: 169)
کربلا کے شہداء اسی قرآنی حقیقت کے مظہر ہیں۔ ان کے جسم مٹی میں سو گئے، مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے، ان کا نام آج بھی زندہ ہے، ان کی قربانی آج بھی زندہ ہے۔
تین محرم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے ساتھ کتنے لوگ ہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے وہ حق کا راستہ ہے یا نہیں۔
اگر راستہ حق کا ہو تو تنہائی کمزوری نہیں بلکہ عزت ہے۔
اگر مقصد خدا کی رضا ہو تو قلیل تعداد بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔
اگر نیت خالص ہو تو چند خیمے بھی پوری دنیا کے محلات پر غالب آ سکتے ہیں۔
کربلا میں یہی ہوا۔
یزید کے پاس سلطنت تھی مگر وہ تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بن گیا۔
حسینؑ کے پاس چند ساتھی تھے مگر وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے امام بن گئے۔
یہی تین محرم کا عظیم پیغام ہے کہ کامیابی کا معیار تعداد نہیں بلکہ صداقت ہے۔
ہمیشہ اکثریت کے پیچھے چلنا دانشمندی نہیں۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ حق کو پہچانا جائے اور پھر اس کا ساتھ دیا جائے، چاہے راستہ کتنا ہی تنہا کیوں نہ ہو۔
پروردگار!
ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے دور رہنے کی بصیرت عطا فرما۔
ہمارے دلوں میں امام حسینؑ کی محبت، ان کے مقصد کی معرفت اور ان کے راستے پر چلنے کا حوصلہ پیدا فرما۔
ہمیں دنیا کی چمک دمک سے دھوکا کھانے والوں میں نہیں بلکہ حق کے لیے قربانی دینے والوں میں قرار دے۔
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ